قانون کی اندھی آنکھوں کا آپریشن ضروری ہے


Editor :tasneem kausar

 

قانون کی اندھی آنکھوں کا آپریشن ضروری ہے 

 

ایک بیٹی کا خط اپنے والد کے نام


 پیارے ابا
آپ کی تدفین کے لئے ہمیں تین دنوں تک جلائے گئے ہمارے مکان سے بس ایک چٹکی راکھ ملی جو ہم نے لحد میں رکھ دی ۔ہم اپنے اس گھر کے باہر دور چپل اتار دیتے ہیں مبادا خاک میں ملی آپ کے جسم کی راکھ پہ پیر نہ پڑجائیں ۔
پیارے اباّ! آپ کی لائبریری میں قانون، ادب، فلسفہ، انسانیت، مذہب، قومی اتحاد اور آپ کی اپنی نظمیں ہزاروں کتابیں جو آپ نے اپنی اگلی نسلوں کے لئے محفوظ کرکے رکھی تھیں، وہ آپ کو سمجھنے کے لئے کافی تھیں. وہ سب خاک میں تبدیل کر دی گئیں. آپ کے دفتر میں اب گوریا نہیں ہیں، ان کے گھونسلے جلا دیے گئے۔مجھے یاد ہے کہ آپ نے اپنے دفتر میں چڑیوں کو گھونسلا بنانے، انڈے دینے، ان کے بچوں کو پرواز بھرنے کو سکھانے کے لئے کتنی محنت کی تھی۔آپ اپنے دفتر کی ایک کھڑکی ہمیشہ ہی کھلی چھوڑ دیتے تھے، اس وقت بھی جب ہم سب پورے گھر کو بند کر کہیں باہر گئے ہوتے۔ صرف اس لئے کہ چڑیا ں،گھر میں آزادی سے نقل و حرکت کر سکیں۔ جب وہ چڑیا ںکچھ گندگی پھیلاتی تھیں، تو دن میں کئی کئی بار آپ اپنے دفتر کی صفائی خوشی خوشی کرتے تھے۔جب ان چڑیوں کے ننھے بچے ہوتے تھے، تو آپ گھر کے پنکھے چلانے والے بجلی کے سوئچ پر ٹیپ لگا دیتے تھے تاکہ غلطی سے وہ چل نہ جائیں۔ پنکھوں سے ان کے زخمی ہونے کی بہ نسبت آپ گرمی کو برداشت کر کے کام کرنا پسند کرتے تھے۔ ہم آج بھی ان چڑیوں کو یاد کرتے ہیں۔
ہمیں ہمت دیجئے ۔۔۔ اباّ! اور اس ملک کو بھی حوصلہ دیجئے، جس کے احترام کے لئے آپ نے بغیر کسی امتیاز اور بغیر کسی مفاد کے زندگی بھر کام کیا۔ہمیں حوصلہ دیجئے اور راہ دکھائیے تاکہ ہم آپ کے دکھائے راستے کو صاف صاف دیکھ سکیں، اس پر چل سکیں۔ امن وآشتی کا راستہ، اتحاد اور سالمیت کا راستہ،تاکہ ہم گجرات کےاس سانحہ کو بار بار دہراتے نہ دیکھیں۔
فقط آپکی بیٹی نسرین جعفری
گلبرگ سوسائٹی -گجرات
آزادی کے بعد ہندستان میں لوک تنتر بنام بھیڑ تنتر کو جس منظم طریقے سے رائج کیا گیا ہے اسکےشکار کون ہیں اوراسکے اہداف کیاہیں یہ ہم نے23-24 دسمبر 1949 کی درمیانی شب سے لے کر 9 نومبر 2019 تک دیکھ لیا اور ان میں انصاف کے مندروں کا کیا حال ہے یہ بھی دیکھ لیا۔ بابری مسجد پہ آستھا کے نام پر جو فیصلہ صادر کیا گیا اسمیں ہندستان کی سپریم عدالت نے اپنے تاریخی سیاہ فیصلے میں ایک تخیلاتی کردار کو زندہ مان کر اسے فریق گردانااور زندوں کے دعوووں پر فوقیت دے دی ۔یہاں بھی جعفر از بنگال و صادق از دکن ۔۔ ننگ ملت، ننگ دین، ننگ وطن سابق عہدیدار آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے کے محمد کی شکل میں براجمان ملا۔ ہندستان کی وہ آستھا جیت گئی جسمیں ایک راجہ ایک دھوبی کے بہتان کی پاداش میں اپنی بیوی کی اگنی پریکشا لےلیتا ہے اسکے باوجود اس کا مقدر جنگل ہوتا ہے لیکن اسکا پتی بھگوان کہلاتا ہے اور وہ اپنے بیٹوں کے ساتھ تاریخ کے سیاہ پنوں میں گم کر دی جاتی ہے۔ اب ان سے یہ کون پوچھے کہ اس راجہ کے صاحب اولاد ہونے کے باوجود اسکی نسل کا کوئی اتاپتہ کیوں نہیں؟ انصاف کے ترازو پر گارے مٹی سے بنی مسجد اپنا دفاع کیا ہی کر پاتی جب گوشت پوست سے بنی ایک مظلوم بوڑھی عورت تمام ثبوتوں گواہوں کی شہادتوں کے باوجود اپنے شہید شوہر کو انصاف دلانے کے لئےآج بھی در دروازے بھٹکتی پھر رہی ہے ۔اب اسکا دم بے دم ہوا چاہتا ہے آنکھیں بے نور سی خلاء میں تکتی رہتی ہیں ۔انصاف ملنے کی رمق اب ماند پڑ گئی ہے اسے اب یقین ہو گیا ہے انصاف اندھا ہی نہیں بہرہ بھی ہوتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ ہندستانی عدلیہ نے بھیڑ تنتر کی پشت پناہی کی ہے ۔ حد تو تب ہو گئی تھی جب تمام ثبوتوں کے باوجود گلبرگ سوسائٹی کے 69 زندہ جلائے گئے بے قصور شہریوں (مسلمان)کے مجرموں میں سے کسی ایک کو بھی پھانسی نہیں دی گئی اور جلے پر نمک خود جج صاحب نے لگایا۔ بری ہونے والوں کے نام پکارے گئے تو فرمایا۔ میں آپ سب کے چہرے پر ہنسی دیکھنا چاہتا ہوں پھر اپنے فیصلے کے حق میں جواز دیا کہ خود احسان جعفری نے اپنی بندوق سے فائر کر کے بھیڑ کو مشتعل کر دیا تھا۔ انصاف کی تاریخ میں پہلی بار کوئی جج اس دیدہ دلیری سے دنگائیوں کی حمایت میں کھڑا دکھا، مطلب یہ کہ اگر آپ کے دروازے پر قاتلوں کی ٹولی دستک دے اور آپ کو سوسائٹی سمیت جلا ڈالنے کا تمام سامان لے کر آپ کی جان کے درپے ہو تو بھی آپ اپنی لائسسنسی بندوق نہ نکالیں اور اگر غلطی سے نکال بھی لیں تو فائر کرنے کی بھول نہ کریں مبادہ آپ کی گولی بھارت ماتا کے کسی لال کو لگ جائے اور اسکی پوریجماعت خود کو خطرے میں سمجھ لے ۔۔! حالانکہ ہم وہی تو ہیں جنہیںاسلامی تعلیمات میں عدل و انصاف گھٹی میں ملا ہے ہم وہی تو ہیں اسی ہندستان میں عدل جہانگیری کے علم بردار ۔۔۔۔!
زیادہ پرانی بات بھی نہیں انصاف پسند بادشاہ جہانگیر نے رعایا کی فریاد تک براہ راست پہنچنے کے لئے محل کے سامنے ایک زنجیر سے بندھاگھنٹا لگوایا تھا جس کو کوئی بھی فریادی بِنا وقت کا لحاظ کئے بجا کر انصاف کا طلبگار ہوسکتا تھا۔ اُس دور میں تو فریادی اتنے ہی تھے کہ گاہے نوبت آتی مگر آج حاکم وقت گھنٹا لگوا دے تو اتنا بجایا جائے گا کہ اس کی اگلی سات پشتیں بہری پیدا ہوں ۔
’’عدل جہانگیری ‘‘ کے دو واقعے بہت مشہور ہیں۔ ایک آوارہ گدھے نے جب زنجیر کے قریب اُگی ہوئی گھاس کھانا شروع کی تو زنجیر ہل گئی۔ جہانگیری انصاف فوراً حرکت میں آ گیا۔ تحقیق اور تفتیش کے بعد پتہ چلا کہ کمہار اپنے گدھے پر برتن تو لادتا ہے لیکن چارہ نہیں کھلاتا۔ چنانچہ قصر شاہی سے فرمان جاری ہوا کہ مظلوم گدھے پر برتن کم لادے جائیں اور اسے گھاس زیادہ کھلائی جائے۔
دوسرا واقعہ اس سے بھی زیادہ ڈرامائی ہے۔ملکہ نور جہاں محل کی بالکونی میں اپنے بال کھولے بیٹھی تھی کہ نیچے گھاٹ پر کپڑے دھوتے ہوئے دھوبی نے اسے دیکھ لیا۔ اس نے غصے میں آ کر تیر کمان پر چڑھایا اور گستاخ نگاہ کے سینے میں اتار دیا۔ اس جرم پر عدل جہانگیری حرکت میں آ گیا۔ ملکہ عالیہ کو سزائے موت سنا دی گئی جسے بالآخر بیوہ کی درخواست پر معاف کر دیا گیا ۔
انگریزی دور میں انصاف دو طرح کا تھا جس کا پرچارک میکیاولی ہے۔ ’’اگر سلطنت کے استحکام کو خطرہ ہو تو ہر اخلاقی ضابطہ پھلانگ جاو۔انگریز چلے گئے بدعات چھوڑ گئے۔
جب ملک آزاد نہیں تھا تو انگریزوں کے دو سو سال کا دور حکومت اور اس سے پہلے مسلمانوں کی حکمرانوں کے ساڑھے پانچ سو سال اور اس سے پہلے کے ہندو بادشاہ – مہاراجاؤں کے دور حکومت میں دربار، اورشرعی عدالتیں عوام کو انصاف دینے کا کام کیا کرتے تھے ۔ مسلم دور میں شرعی عدالتوں کا بھی نیٹ ورک پورے ملک میں بچھا ہوا تھا اور شہر قاضی انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر قرآن و سنت کی روشنی میں انصاف کیا کرتے تھے۔ عدالتی عمل میں تبدیلی انگریزوں کے دور حکومت میں شروع ہو ئی اور آئی پی سی ، سی آر پی سی اور سی پی سی بنا کر تمام عدالتی ڈھانچہ تیار کیا گیا جس کا مرکز انگلینڈ میں ہوتا تھا ۔ ملک کے ہر صوبے میں ہائی کورٹ اور ہر ضلع میں عدالتوں کے ذریعے عدالتی عمل کی ابتدا ہوئی۔ انگریزوں کے ہی دور میں وکیل کا کردار ابھر کر سامنے آیا اور لوگ بار یٹ لاکی سپریم ڈگری لینے انگلیڈ جاتے اور وکالت کرتے۔آپکو جان کر حیرت ہوگی کہ صرف سو سالوں میں اس وکیل پرجاتی ( سخت لفظ کیلئے معذرت) نے ہندوستان کی تقدیر بدل کر رکھ دی ۔
وہ وکیلوں کی ہی فوج تھی جو 1947میں سرگرم تھی اور وہ ایک وکیل ہی تھا کلیمنٹ رچرڈ ایٹلے جسنے انگلینڈکا پرائم منسٹر بنتے ہی مذہب کی بنیاد پر پہلی بار دنیا میں دو ملک بنائے پاکستان اور اسرائیل۔ 1927 میں سائمن کمیشن میں ایک ممبر کی حیثیت سے کلینمنٹ ایٹلی جو پیشے سے وکیل تھا ہندوستان آیا تھا۔ اس کو سمجھنا تھا کہ ہندوستانیوں کی سیلف رُول کی ڈیمانڈ میں کتنا دم ہے اسنے پایا کہ ہندوستانی مسلمان اس کی توقع سے زیادہ احمق ہیں اور ہندو امید سے زیادہ وفادار ۔۔۔ اس زمانے میں کون سے ایسے وکیل تھے جن میں سیاست کے جر ثومے بدرجۂ اتم موجود تھے ۔ ذرا غور کیجئے ناموں پر ۔۔۔ موہن داس کرم چند گاندھی، محمد علی جناح ۔ کلیمنٹ ایٹلی،سردار ولبھ بھائی پٹیل، پنڈت جواہر لال نہرو، ڈاکٹر راجندر پرساد اور جناب بھیم راو امبیڈکر ۔ ملک آزاد ہوا ۔ ملک کا آئین بنا اور موجودہ نظام قائم ہوا۔ عدالتوں میں عدالتی حکام اور ججوں کی ساکھ پر کوئی سوالیہ نشان کافی لمبے عرصے تک نہیں رہا لیکن سپریم کورٹ میں ججوں اور چیف جسٹس آف انڈیا کی تقرری پر جیسے جیسے سیاسی جماعتوں کی مقصد براری، بدنیتی سےسیاہ و سفید کی آمیزش شروع ہوئی انصاف کے مندروں کے ان معبودوں کے کردار پر سوالیہ نشان لگنے لگے قومی اور آئینی مسائل پر عدالتوں کے کردار پر سوال اٹھے۔ عدالتوں کی سیکولر شبیہ پر سوال کھڑے ہوئے لیکن توہین عدالت کے خوف سے عوام کی زبان پر تالے پڑے رہے اور پڑے رہیں گے ۔سڑکوںپر کچھ موسمی نیتاانصاف کا پرچم ہاتھ میں تھامے دہائی دیتے ہیں ، انکی صدا پر صاد کیسا؟ یہ تو بھروسہ ہی کھو چکے ہیں۔سچ پوچھئے تو اب جج بھی اسی قطار میں کھڑے نظر آ رہے ہیں ایسا لگتا ہے جیسے عدلیہ اور مقننہ میں ایک سرد جنگ سی چل رہی ہے ۔ ہمارے ملک میں 1993سے ججوں کی تقرری کے لئے قائم کولیجیم سسٹم یعنی by the judges for the judges of the judges کو اس طرح سے ترتیب دیا گیا ہے کہ اسے بدلنے کے لئے مارشل لاء لانا پڑے گا اور مزے کی بات یہ ہے کہ آئین سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ۔ حکومتیں بدل گئیں مگر کولیجیم سسٹم جوں کا توں رہا ۔ تو آپ اس خام خیالی میں نہ رہیں کہ جمہوریت میں آپ کے پاس ووٹ کی طاقت ہے اور آپ تختے پلٹنے کی طاقت رکھتے ہیں آنے والے دنوں میں ایسے دعوے داروں کا مقدر تخت نہیں تختہ ہوگا ۔
پچھلی سرکار کے وزیر قانون نے عدالتوں کی جوابدہی طے کرنے کے لئے ایک قانون بنائے جانے کا ذکر کرکے عدلیہ کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا مگر کامیاب نہیں ہو سکے۔ آئین کے آرٹیکل 124 میں صاف صاف درج ہے کہ ججوں کی تقرری کا حق صدر کے پاس ہے اور صدر اپنے اس حق کا استعمال ہندوستان کے چیف جسٹس کی سفارش کے ‘بعد’ کرتا ہے نہ کہ مشورہ کے ‘مطابق۔ 1993میںاس کولیجیم سسٹم کو آئین سے پرے بنانے کی کیا اور کیوں ضرورت پیش آئی اور اس کو مطلق العنان ہونے کی حد تک کیوں طاقت دی گئی یہ بھی ایک راز ہی ہے جسے ابھی اور بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اسوقت بابری مسجد کی شہادت کا زخم تازہ تھا اور عدالت عا لیہ کی حکم عدولی کی پاداش میں کئی اہم شخصیات قانون کی زد میں تھیں ۔یہ ایسا سسٹم ہے جسنے پارلیمنٹ تو پارلیامنٹ صدر جمہوریہ تک کو اپنے تابع کر رکھا ہے انکی رائے بس دینے بھر کی ہے۔
2014میں جب حکومت بدلی تو محض 6 مہینے کے اندر اس سسٹم کو ختم کرنے کے لئے ایک نیا لائحہ عمل مرتب کر لیا گیا کیونکہ اس حکومت کو اس بدلاٗو کی سب سے زیادہ ضرورت تھی مگر رہ گئے ٹائیں ٹائیں فسس اور 99 ویں ترمیم اور NJAC ( NATIONAL JUDICIAL APPOINTMENT COMMISSION ) کو سپریم کورٹ نے یکسر خارج کر دیا جسمیں سول سوسائٹی اور سیاسی دخل کو ججوں کی تقرری کے عمل میں شامل کیا گیا تھا۔
کولیجیم سسٹم جس میں سپر اتھارٹی خود جج صاحبان ہیں انکی تقرری میں سیاسی دخل صفر ہے تو من مطابق فیصلوں کے لئے دوسرے راستے اختیار کئے گئے ، حکومتیں بعد از سبکدوشی جاہ و منصب عطا کرنے لگیں کوئی کہیں گورنر لگ گیاتو کوئی کھیل اتھارٹی کا چئیر مین اور جو کوئی حد درجہ انصاف پسند حق گو نکلا تو اسکا لویا ہوگیا۔ عدالتوں میں بدعنوانی کے جراثیم داخل ہوئے تو عدالتوں میں انصاف کی خرید و فروخت کا کام شروع ہوا۔ پھر یہ بیماری ضلع جج و منصف مجسٹریٹ میں سرائیت کر گئی ۔ اب تو وکیل اس بات پر افسردہ پھرتے ہیں کہ جج کے ساتھ چیمبرنگ نہیں ہو رہی ۔۔۔۔جج سیٹ نہیں ہو رہا ۔عدالتوں میں بے گناہوں کو سزائیں اور مجرموں کو آزادی ملنے کی تاریخ پرانی ہے ۔ مخصوص عدالتوں میںمخصوص ملزمین کو تو صرف تاریخ پہ تاریخ ہی ملی ۔آزاد ہندستان کی تاریخ میں آج تک کسی دنگائی کوپھانسی نہیں ہوئی مخصوص دہشت گرد دار تک پہنچائے گئے۔9 نومبر کو عدالت میں جو ہوا وہ دنیا دیکھتی رہ گئی انصاف کا قتل ہوا یا عصمت لُٹی یہ تو وقت بتائے گا ۔ہم سے تو امید ہی مت رکھئے کہ ہم میںاب وہ بلال کہاں جو نہ دے اذاں تو سحرنہ ہو۔

تحریر:تسنیم کوثر

وہ وکیلوں کی ہی فوج تھی جو 1947میں سرگرم تھی اور وہ ایک وکیل ہی تھا کلیمنٹ رچرڈ ایٹلے جسنے انگلینڈکا پرائم منسٹر بنتے ہی مذہب کی بنیاد پر پہلی بار دنیا میں دو ملک بنائے پاکستان اور اسرائیل۔ 1927 میں سائمن کمیشن میں ایک ممبر کی حیثیت سے کلینمنٹ ایٹلی جو پیشے سے وکیل تھا ہندوستان آیا تھا۔ اس کو سمجھنا تھا کہ ہندوستانیوں کی سیلف رُول کی ڈیمانڈ میں کتنا دم ہے اسنے پایا کہ ہندوستانی مسلمان اس کی توقع سے زیادہ احمق ہیں اور ہندو امید سے زیادہ وفادار

You May Also Like

Notify me when new comments are added.

ट्रेंडिंग/Trending videos

you will not hear this kind of reasoning on TV channels including those who claim to be the torch bearer of independent media

गृहमंत्री अमित शाह ने सोमवार को लोकसभा में विपक्ष के विरोध के बीच चर्चा के लिए नागरिकता संशोधन बिल पेश किया। शाह ने स्पष्ट किया कि यह बिल अधिकारों को छीनने वाला नहीं, बल्कि अधिकार देने वाला बिल है।लेकिन प्रो फैजान मुस्तफा समझा रहे हैं की इसकी बुनयाद ही ग़लत है

मुद्दा गर्म है

नज़रिया

एशिया